احکام حج

سودی قرض لے کر حج پر جانا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
21414
| تاریخ :
2014-02-26
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

سودی قرض لے کر حج پر جانا جائز ہے ؟

میں سرکاری ملازم ہوں ،میں نے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے گاڑی کے لیے قرضہ لے کر گاڑی لی ، اب اس گاڑی کو بیچ کر یا اس کے بدلے بینک سے قرضہ لے کر یعنی دوبارہ پر اسس کر کے حج کرسکتا ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گاڑی کو فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی قیمت سے حج کرناتو بلا شبہ جائز ہے، البتہ بینک سے سودی قرض لیناجائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار : وفی الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ(166/5).
وفیهأیضاً : وقد يتصف بالحرمة كالحج بمال حرام اھ۔
و فی رد المحتار : تحت ( قوله كالحج بمال حرام) (وفیه) وهنا كذلك فإن الحج فی نفسه مأمور به وانما يحرم من حيث الانفاق وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلافیه، فان الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه ، ولذا قال فی البحر ويجتهد فی تحصيل نفقه حلال، فانه لا يقبل بالنفقة الحرام اھ(456/2)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 21414کی تصدیق کریں
0     484
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات