میں سرکاری ملازم ہوں ،میں نے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے گاڑی کے لیے قرضہ لے کر گاڑی لی ، اب اس گاڑی کو بیچ کر یا اس کے بدلے بینک سے قرضہ لے کر یعنی دوبارہ پر اسس کر کے حج کرسکتا ہوں ؟
گاڑی کو فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی قیمت سے حج کرناتو بلا شبہ جائز ہے، البتہ بینک سے سودی قرض لیناجائز نہیں۔
كما فی الدر المختار : وفی الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ(166/5).
وفیهأیضاً : وقد يتصف بالحرمة كالحج بمال حرام اھ۔
و فی رد المحتار : تحت ( قوله كالحج بمال حرام) (وفیه) وهنا كذلك فإن الحج فی نفسه مأمور به وانما يحرم من حيث الانفاق وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلافیه، فان الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه ، ولذا قال فی البحر ويجتهد فی تحصيل نفقه حلال، فانه لا يقبل بالنفقة الحرام اھ(456/2)۔