مفتی صاحب! مجھے کچھ دنوں سے نماز کے دوران پیچھے سے حرکت محسوس ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ گیس خارج ہو رہی ہے، مگر کوئی آواز یا بد بو نہیں ہوتی، مگر میں دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھ لیتا ہوں ، مگر بار بار کے اس طرح کے دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھنے سے ، میں ذہنی طور پر تکلیف کا شکار ہوں، کیونکہ کبھی کبھار تو بار بار کے وضو سے جماعت چھوٹ جاتی ہے اور کبھی تو وقت گزر جاتا ہے اور قضاء پڑھتا ہوں، میری راہ نمائی فرمائیں کہ جو حرکت محسوس ہوتی ہے اس سے میرا وضو باقی رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے ؟ اور کیا میں ایسے ہی بار بار وضو کر کے نماز پڑھتا رہوں؟
جب تک خروجِ ریح کی آواز ، بدبو یا قطعی احساس کے ذریعہ یقین نہ ہو جائے اس وقت تک محض ہوا کے محسوس ہونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، لہٰذا سائل کو بار بار وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
فی مشكاة المصابيح : و عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» . رواه مسلم (1/ 101)۔
و في مرقاة المفاتيح : (حتى يسمع صوتا) : أي : صوت ريح يخرج منه ( «أو يجد ريحا» ) : أي : يجد رائحة ريح خرجت منه، وهذا مجاز عن تيقن الحدث لأنهما سبب العلم بذلك الخ(1/ 360)۔