اگر کسی شخص کی بیوی "دکھان" شہر کی ہو اور وہ "دکھان" سے ۴۸ میل کے فاصلے پر ہو ، اور اس کی بیوی اس کے ساتھ یعنی شوہر کے ساتھ رہتی ہو ، تو ایسی صورت میں "دکھان" جا کے ، کیا شوہر سفر کی نماز پڑھے گا یا مقیم کی؟ اور اس کی بیوی اپنے باپ کے گھر یعنی "دکھان" میں کیسی نماز پڑھے گی؟ اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ والی حدیث سے کافی پریشان ہیں، برائے کرم تفصیلی جواب ارسال کر دیں۔
"دکھان" شہر اور شوہر کے شہر کے درمیان ۷۸ میل شرعی کا فاصلہ ہو اور وہاں پندرہ یوم سے کم کے لۓ جانے کا ارادہ ہو ، تو دکھان شہر جانے کی صورت میں میاں بیوی دونوں اپنی نماز میں قصر کریں گے ، ورنہ اتمام کریں گے، جبکہ اس حکم میں بیوی شرعاً شوہر کے تابع ہوگی۔
كما في مرقاة المفاتيح : لأنه تأهل بمكة على ما رواه أحمد أنه صلى بمنى أربع ركعات ، فأنكر الناس عليه فقال : أيها الناس إني تأهلت بمكة منذ قدمت ، و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " «من تأهل في بلد فليصل صلاة المقيم» ". ذكره ابن الهمام ، و في إنكار الناس عليه دليل على أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يكن يتم الصلاة في السفر ، و أن القصر عزيمة و إلا فلا وجه للإنكار اھ (3/ 1005)۔
و في الفتاوى التاتارخانية : فنقول أدنى مدة الإقامة عندنا خمسة عشر يوما الخ و عندنا ما لم ينو الإقامة خمسة عشر يوما لا يتم الصلاة اھ ( ۲/ ۵)۔
و فيه أيضا : و من حكم الوطن الأ صلي أن ينتقض بالوطن الأصلي لأنه مثله و الشيئ ينتقض بما هو مثله اھ (۲ / ۱۹ )۔
و فی حاشية ابن عابدين : فلو كان له أبوان ببلد غير مولده و هو بالغ و لم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه و ترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية اھ (2/ 132)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4