اکثر میرا پیٹ خراب رہتاہے اور نماز کے اندر سجدہ میں جاتے ہوئے ہوا یعنی ریح خارج ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات لگتاہے ہوا نکل گئی اور بعض اوقات وہم ہوتاہے۔سجدہ میں ہی جاکر میری ہوا خارج ہوتی ہے اگر یہ بیماری ہے تو کیا میری نماز ہوجائے گی؟
اگر سائل کے ساتھ واقعۃً ایسی بیماری ہو کہ حالت سجدہ میں جانے سے اس کی ریح خارج ہوجاتی ہو یا اس کا اسے وہم ہوتاہو، اور اس حالت کے علاوہ نہ تو ریخ خارج ہوتی ہو اور نہ ہی اس کا وہم ہوتاہو تو اس صورت میں اسے چاہیے کہ باقی تمام ارکان کو ان کی ہئیت مسنونہ کے موافق ادا کرے جبکہ سجدہ اشارہ سے بجا لاکر اپنی نماز پوری کرے۔
وفی الهندیة: کل من لا یقدر علی اداء الرکن الا بحدث یسقط عنه ذلك الرکن کذا فی فتاوی قاضیخان حی لو کان به جراحة لا یسطیع أن یسجد الاویسل جراحته وهو صحیح فی ما سوی ذلك یقدر علی الرکوع والقیام والقراءة یصلی قاعدًا یومی ایماءً، ولو صلی بالرکوع وقعد وأوما بالسجود أجزأه والاوّل افضل. (۱/ ۱۳۸)
وفی الدر المختار: یجب رد عذره او تقلیله بقدر قدرته ولو بصلٰوته مومیًا، وبرده لا یبقی ذا عذر.
وفی الشامیة: قال فی البحر ومتی قدر المعذور رد السیلان برباط او حشو او کان لو جلس لا یسیل ولو قام سال وجب رده وخرج برده عن ان یکون صاحب عذر، ویجب أن یصلی جالسًا بایماء ان سال بالمیلان لأن ترك السجود اهون من الصلٰوة مع الحدث. (۱/ ۳۰۸)۔