السلام علیکم !
محترم فقہائے دین اس بارے میں کیا جواب دیں گے ؟ متو فی یعقوب کا ایک گھر ہے، جو اس نے لیا تھا، اپنی حیات میں، یعقوب کے 3 بہنیں ہیں، ایک بیوہ جس نے دوسری شادی کر لی ہے، اور ایک بیٹا سلمان، تو کیا یعقوب کے گھر میں ان کے بہنوں کا حصہ بنتا ہے؟ جبکہ بیٹا سلمان ابھی 7 سال کا ہے اور اس کے پرورش ابھی ماں ہی کر رہی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم یعقوب کا ترکہ اصول ِمیراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں سے صرف بیوہ اور بیٹے مسمی سلمان کو دیا جائے گا۔ جس کی صورت یہ ہے کہ حقوق متقدمہ علی المیراث( کفن دفن کے متوسط مصارف ،اور واجب الادا قرضوں کی ادائیگی، اور مرحوم نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو، اور اس نے معاف بھی نہ کیا تو اس کی ادائیگی، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو مابقی مال کے تہائی کی تک اس پر عمل کے بعد ) آٹھواں حصہ بیوہ کو دیدیں ،اور باقی تمام مال بچے کا ہوگا۔ جبکہ مرحوم کی بہنیں مرحوم کے ترکہ و میراث سے محروم رہیں گی۔
کما فی السراجی، وبنو الاعيان والعلات كلهم يسقطون بالابن و ابن الابن وان سفل اھ (ص: ۱۱)۔
و على هامش السراجی : تحت (قوله بنو الاعيان الخ ) هذه حالة سابعة للاخوات والاب ومشتملة على حالة خامسة للاخوات لاب و ام ایضا والمراد بنی الاعیان و العلات هھنا الاخوة والاخوات اھ (ص: ۱۱) واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1