1:کینڈا یا امریکہ میں رہنے والے مسلمان سود پر قرض لے سکتے ہیں گھر خریدنے کیلئے ؟
۲: بینک جمع شدہ رقم پر سود دیتا ہے، سود کی رقم بینک سے حاصل کی جائے یا نہیں؟ ہاں کی صورت میں اس رقم کا کیا استعمال ہونا چاہیئے ؟
۔ واضح ہو کہ سود کی حرمت قرآن و حدیث کی نصوصِ قطعیہ سے واضح طور پر ثابت ہے، اس لئے اس کا لین دین غیر مسلم ممالک میں ہی کیوں نہ ہو، بلا شبہ نا جائز و حرام ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
البتہ بینک خود پہلے کوئی مکان خرید کر اپنے قبضہ میں لے آئے، اس کے بعد کچھ نفع رکھ کر ادھار پر قسطیں متعین کر کے کسی مسلمان پر فروخت کرے تو یہ بلا شبہ جائز ہے ، اور اس طرح مکان کسی مسلمان کو لینا بھی درست ہے ۔
ایسی رقم کا اصل حکم یہ ہے کہ اُسے وصول کرکے اصل مالکان تک پہنچا یا جائے، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بغیر نیتِ ثواب فقراء ومساکین پر صرف کی جائے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 130)-
وفي فتح القدير: (قوله ولا بين المسلم والحربي في دار الحرب خلافا لأبي يوسف والشافعي) ومالك وأحمد (إلی قوله) ( لهم ) إطلاق النصوص فإنها لم تقيد المنع بمكان دون مكان ، والقياس على المستأمن منهم في دارنا ، فإن الربا يجري بين المسلم وبينه فكذا الداخل منا إليهم بأمان . (15/ 359)-
وفی الفتاوى الهندية: وإذا مات الرجل وكسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفوا أربابه تصدقوا به (5/ 349)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0