میری عمر ۳۶ سال ہے ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جب پیشاب کرتا ہوں ، تو پیشاب پوری طرح سے خارج نہیں ہوتا ، اور پیشاب کے بعد مجھے قطرے آتے ہیں، یہ اس وقت زیادہ ہوتے ہیں جب میں جھکتا ہوں ، جیسا کہ نماز وغیرہ میں ، ان کے خارج نہ ہونے کی میں پوری کوشش کرتا ہوں مگر کسی طرح کنٹرول نہیں کر پاتا ، میں اس وجہ سے بہت پریشان ہوں ، کیونکہ اس سے کپڑے بھی خراب ہوتے ہیں ، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں نماز کیسے پڑھوں ، اور میں اس سال حج پر بھی جانے والا ہوں ، تو مجھے پتہ کرنا تھا کہ میں اس ساری صورت حال میں کیا کروں؟ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں ۔
جو صورت سائل نے بیان کی ہے، اگر اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اُسے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے ، تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گا ، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگیِ ظہر کیلۓ ، ابتداء میں وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اُسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض ظہر ادا کرے ، اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کیلۓ پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کرکے نمازِ عصر باجماعت ادا کرے ، اس دوران اگر کچھ قطرے گر بھی جائیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی ایسا ہی کرے، کہ ہر نماز کیلۓ الگ الگ وضو کرلیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا ، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ، البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز کوئی ایسا گزرجائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اُسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو ، تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا ، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کی اشد ضرورت ہے۔
فی الدر المختار : و صاحب عذر من به سلس أو استطلاق بطن أو نفلات ریح أو استحاضة ان استوعب عذره تمام وقتِ صلوٰة مفروضة (إلی قوله) و حكمه الوضوء لكل فرض ثم یصلی فیه فرضًا و نفلًا فإذا خرج الوقت بطل . اهـ (1/305)۔