محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں درجہ رابعہ کی طالبہ ہوں درس نظامی کا کورس کر رہی ہوں ایک شخص نے مجھ سے مسح کے متعلق سوال کیا جو انگلینڈ میں رہتاہے جو سخت ٹھنڈا علاقہ ہے اس نے کہاکہ ہم لوگ وضو بنانے کے بعد جراب (socks) پہنتے اور اس کے بعد جب بھی وضو کرتے تو ان جرابوں کے اوپر ہی مسح کرتے ہیں میرے علم کے مطابق تو ان عام جرابوں پر مسح نہیں ہوتا جنہیں ہم سردی سے بچاؤ کیلئے پہنتے ہیں حکم تو خفّین کیلئے ہے جس کے اوپر سے پانی بہادیا جائے تو سرایت نہیں کرتا ہو اور بھی شرائط ہیں آپ کا کیا خیال ہے، ان کا عام جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے یا یہ مسح علی الخفین کا مسئلہ ہےجزاک اللہ
واضح ہو کہ اگر اونی یا سوتی موزوں اور جرابوں میں مندرجہ ذیل شرائط موجود ہوں تو ان پر مسح کرنا جائز ہے:
(۱)۔ وہ اس قدر گاڑھی اور موٹی ہوں کہ صرف انہیں پہن کر اگر تین میل یعنی بارہ ہزار قم چلیں تو وہ نہ پھٹیں۔
(۲)۔ اگر انہیں پہن کر پنڈلی نہ باندھیں تو وہ نہ گریں۔
(۳)۔ ان میں سے پانی چھنے۔
(۴)۔ اُن کے اندر سے کوئی چیز نظر نہ آئے، یعنی اگر آنکھ لگاکر اُس میں سے دیکھیں تو دوسری طرف کا کچھ نہ دکھائی دے، ظاہر ہے کہ سوال میں مذکور جرابوں میں یہ شرائط مفقود ہیں لہٰذا ان پر مسح کرنا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدّر المختار: أو جورب ولو من غزل أو شعر الثخنین بحیث یمشی فرسخا ویثبت علی الساق بنفسه ولا بری ما تحته ولا یشف (۱/ ۲۶۹) واللہ اعلم بالصواب