جناب مفتی صاحب یہ بتا دیں کہ ہماری وراثت کی تقسیم کے لیے بنائی جانے والی پنچایت میں دونوں فریقین کی طرف سےایک ایک وکیل مقرر ہوا ، کیا وکیل کے ہوتے ہوئے خود پنچایت والے بھی کسی فریق کی طرف سے خود وکیل مقرر ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ بلکہ اس فریق کے وکیل کو بھی نہ پتا ہو، مطلب یہ کہ کیا خود منصف بھی وکیل مقرر ہو سکتا ہے؟
وراثت کی تقسیم کے لیے شرعی قانون وراثت کافی ہے، اس کے لیے پنچایت کی ضرورت نہیں، بلکہ معتبر دارالافتاء سے فتویٰ لے کر اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔تاہم فتوی پر عملدرآمد کرانے کے لئے پنچائیت کی ضرورت ہوتو پنچائیت کے سپرد یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ اور پھر پنجائیت والے فریقین کی اجازت سے وکیل بھی بن سکتے ہیں۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0