میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر ایک آدمی فوت ہو جائے ،اس کا کوئی بھی وارث نہ ہو ،سوائے بیوہ کے تو اس کو کتنا حصہ ملے گا ؟
مرحوم کے ورثاء میں بیوہ کے علاوہ کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ بیوی کو چوتھائی حصہ دینے کے بعد بقیہ ترکہ بیت المال میں جمع کر لیا جائے، لیکن موجودہ زمانے میں بیت المال کا قیام نہ ہونے کی وجہ سے سارا کا سارا ترکہ بیوہ ہی کو دیا جائے۔
کمافی الأشباه والنظائر – حنفي: وكذا ما فضل بعد فرض أحد الزوجين يرد عليه و كذا المال يكون للبنت رضاعا وعزاه إلى النهاية بناء على أنه ليس في زماننا بيت مال لأنهم لا يضعونه موضعه اھ (ص: 331).
و في هامش السراجي : تحت (قوله ثم الرد ) (الى قوله ) والحق أن الرد عليها وضع موضع بيت المال، و درجتهما درجة بيت المال یعنی لو لم يكن الموصى له بجميع المال فالآن یرد على الزوجين لفقد بيت المال في زماننا اھ (ص: ۱۰) واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1