زید کے والد کے انتقال پر زید کے بہن بھائیوں نے وراثت میں ملنے والا سامان آپس میں تقسیم کر لیا، زید نے بھی ایک سلائی مشین لے لی، کچھ لوگوں نے زید سے کہا کہ یہ مشین ایک یتیم بچی کے لئے ہیں ،جو اُس کو شادی پر دیدی جائے گی، زید نے کہا کہ جب بچی کی شادی ہو گی ،تو میں اس کو نیا مشین لے کر دے دونگا، اب بچی کی شادی ہو چکی ہے، اور زید کا بھی انتقال ہو گیا ہے ،اب کیا زید کی طرف سے یتیم بچی کو مشین دینا ہوگی یا اس کی کوئی اور صورت ہوگی؟
مذکورہ مشین اگر ترکہ کی ہو تو زید کو ملنے والی مشین اس کی ہی ملکیت ہے، اگر وہ اس کے شرعی حصہ سے زائد کی نہ بنتی ہو، اس لئے زید کی طرف سے اس لڑکی کے لیے مشین لینا ضروری نہیں، اور اگر مرحوم زید کے والد کے پاس یہ مشین یتیم بچی کی امانت تھی، تو اب مسمی زید کے ترکہ سے اس بچی کو مشین دلانا لازم ہے۔
کما فی السراجی : ثم تقضى ديونه من جميع ما بقى من ماله ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقى بعد الدين ثم يقسم الباقي بین ورثته اھ (ص: ۳) والله اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1