محترم جناب: السلام علیکم ! عرض ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو حفظ کرنے کے لئے ایک مدرسے میں داخل کروایا ہے، مدرسے میں تمام بچوں کو تمام دن ایک ہی حالت میں بٹھاتے ہیں جس میں دائیں پاؤں کا ٹخنہ زمین سے ٹکراتا ہے اور سارے بدن کا زور اُٹھاتا ہے ، میرا بچہ اس حالت میں بیٹھا تو اس کے ٹخنے میں زخم ہو گیا، مدرسے والے کہتے ہیں کہ اسی پوزیشن میں بیٹھنا ضروری ہے ؟ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس سلسلے میں قرآن و حدیث میں کوئی واضح ہدایت موجود ہیں؟ اور کیا اس حالت میں بیٹھنا ضروری ہے؟ اور کیا اس حالت کہ علاوہ کوئی ایسی بیٹھنے کی صورت ہے جس میں بیٹھ کر قرآن مجید حفظ کیا جاسکتا ہے؟ براہ مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔
حفظ قرآن کے لئے بیٹھنے کی کوئی خاص صورت شرعاً متعین نہیں، بلکہ کسی بھی ہیئت پر بسہولت بیٹھ کر قرآن کریم حفظ کرنا جائز ہے قاری صاحبان کا کسی بچے کو ایک ہی مخصوص صورت پر بیٹھنے پر مجبور کرنا درست نہیں جبکہ سائل کے بیٹے کو اس سے تکلیف بھی ہو چکی ہے، ہاں عموماً مذکور مخصوص صورت میں چستی رہتی ہے، اس لئے اس طرح بیٹھنے کو کہا جاتا ہے اور محض ضابطہ کی کاروائی ہے۔
كما في الفتاوى الهندية (5/ 316)
رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة لأن تعظيم القرآن والفقه واجب كذا في فتاوى قاضي خان
و ايضا فيه : لا بأس بقراءة القرآن إذا وضع جنبه على الأرض ولكن ينبغي أن يضم رجليه عند القراءة كذا في المحيط لا بأس بالقراءة مضطجعا إذا أخرج رأسه من اللحاف لأنه يكون كاللبس وإلا فلا كذا في القنية اھ (5/ 316) اعلم بالصواب
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0