وضو

شبنم کے پانی سے وضوءکاحکم

فتوی نمبر :
2645
| تاریخ :
2007-10-03
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

شبنم کے پانی سے وضوءکاحکم

السلام علیکم! مجھے وضو کے کچھ مسائل کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ وضوء ،اوس (شبنم) کے پانی سے بھی کیا جا سکتا ہے؟ اگر پانی کی مجبوری ہو، جیسے رائیونڈ میں ہوتا ہے پانی کے تھوڑے سے مسئلے مسائل ہیں۔ اس کا آپ مجھے جلد سے جلد جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شبنم کا پانی اگر اتنی مقدار میں ہو جس سے آسانی کے ساتھ وضو کے فرائض انجام دیئے جا سکتےہوں اور اعضاءِ وضو پر اچھی طرح پانی بہہ جاتا ہو تو اس پانی سے وضو کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے،لیکن اگر شبنم کے پانی سے محض ہاتھ تر ہوتے ہوں اور اس پانی کے اندر اعضاء وضو پر بہہ جانے کی صلاحیت نہ ہو تو اس پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ، بلکہ اس علاوہ دوسرا پانی تلاش کیا جائے تاکہ وضو صحیح طور پر ادا ہو سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: الأول: غسل الوجه الغسل: هو الإسالة والمسح هو الإصابة. كذا في الهداية. وفي شرح الطحاوي أن تسييل الماء شرط في الوضوء في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء، وعن أبي يوسف - رحمه الله - أن التقاطر ليس بشرط ففي مسألة الثلج إذا توضأ به إن قطر قطرتان فصاعدا يجوز إجماعا وإن كان بخلافه فهو على قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا يجوز، وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز كذا في الذخيرة والصحيح قولهما. كذا في المضمرات اھ (1/ 3)
وفی الدر المختار: (غسل الوجه) أي إسالة الماء مع التقاطر ولو قطرة. وفي الفيض أقله قطرتان في الأصح اھ (1/ 95) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 2645کی تصدیق کریں
0     643
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات