ایک خاتون کے شوہر کا انتقال ہو گیا، اولاد کوئی نہیں ہے، اس کے سسرال اسے جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں دے رہے، کیا یہ شریعت کی رو سے درست ہے؟ کیا اس کے شوہر کی جائیداد میں اس کی بیوی کا کوئی حصہ نہیں ہے؟
شوہر کی اولاد نہ ہو تو عورت کا ،شوہر (مرحوم) کے کل ترکہ میں،چوتھائی (۴/۱) حصہ بنتا ہے، جبکہ سسرال کا اسے شوہر کے مال میں حصہ سے محروم کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في السراجي : الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد و ولد الابن وإن سفل اھ (ص: ۱۸)
و في مشكاة المصابيح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه اھ (2/ 926) واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1