وضو

اگر کوئی معذوری کی وجہ سے وضو اور غسل نہیں کرسکتا

فتوی نمبر :
27848
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

اگر کوئی معذوری کی وجہ سے وضو اور غسل نہیں کرسکتا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں جوڑوں کے درد اور بلڈ پریشر کا مریض ہوں اور ان امراض کی دوا استعمال کر رہاہوں جس کے باعث مجھے پیشاب کی معذوری بھی ہوگئی ہے پیشاب کی معذوری کے باعث نماز نہیں ہورہی ہے میں بہت پریشان ہوں در اصل ہوتا یہ ہے کہ پیشاب کنٹرول نہیں ہوتا اگر ذرا دیر ہوجائے تو کپڑے اور جسم ناپاک ہوجاتے ہیں پیمپر بھی منگوائے مگر جوڑوں کی تکلیف کے باعث اُن کا استعمال بھی نہیں ہوتا سال پہلے شنگل (روڑے ایک جلدی مرض جس کی سے کمر کے قریب جتے جڑ جاتے ہیں اور سوزش ہوتی ہے) کا مرض بھی ہوگیا تھا جس کے باعث دائیں جانب میں تکلیف کا یہ عالم ہے کہ باوجود غسل خانے میں کرسی لگوانے کے ہفتوں غسل نہیں کر پاتا، دن بدن تکلیف میں اضافہ کے باعث رفع حاجت کے بعد آب دست لینا اور صفائی بھی مشکل امر ہے۔
دوران نماز بھی قطرے خارج ہوتے ہیں تکلیف کے باعث وضو ہو ہی نہیں پاتا کیونکہ نہ بازو دھو سکتاہوں اور نہ سر کا مسح ممکن ہے ؟
مجھے حکم فرمائیں کہ ایسی کیفیت میں نماز اور تلاوتِ قرآن کیسے ادا کروں؟ کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ میری اس معذوری کو قبول فرماکر جیسے بھی عمل ہوجائے قبول کرلیں گے؟ سوتے جاگتے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے توبہ کرتاہوں اور معافی مانگتا رہتاہوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ میری اس مشکل کو آسان بنادیں ورنہ میرا کیا بنے گا؟ آپ بھی میرے حق دعا فرمائیں جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو پیشاب کی تکلیف اگر اس حد تک ہو کہ وہ طہارت کے ساتھ فرض نماز بھی نہ پڑھ سکتاہوں۔ اور اس کا عذر پورے نماز کےو قت میں رہتاہو تو وہ شرعاً معذور ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ وہ وقت کی نماز کیلئے وضو کرے اور وقت کے اندر فرض، نفل نماز اور دیگر عبادات بجالائے جب دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے تو اس کیلئے علیحدہ وضو کرے اسی طرح ہر نماز کے لیے علیحدہ وضو کرکے وقت کے اندر ہر طرح کی عبادات بجالائے جبکہ اس عذر کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس کے علاوہ کوئی مفسد وضو پیش آئے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا سائل اگر وضو اور غسل خود نہیں کرسکتا ہو اور وہ صاحبِ اولاد اور صاحبِ زوجہ ہو تو بیوی اور بچوں سے وضو غسل کا کام لے یا اس کیلئے کوئی ملازم رکھ سکتاہے۔ تو اس طرح کرے اگر اولاد اور بیوی نہ ہو یا وہ بات نہ مانیں اور ملازم کی بھی طاقت اور قدرت نہ ہو تو بغیر وضو اور غسل بھی تیمم کرکے اپنی عبادت بجا لاسکتاہے۔ جبکہ کپڑے اور جسم میں جہاں نجاست لگ جائے اس کا دھونا لازم ہے۔ بشرطیکہ دھونے کا فائدہ ہو یعنی کپڑے دھونے کے بعد پاک کپڑوں میں نماز پڑھنا ممکن ہو ورنہ کپڑوں اور جسم کو دھونا بھی لازم نہیں بلکہ اسی طرح نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الهدایة: والمستحاضة من به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذی لا یرقا یتوضئون لوقت کل صلوة فیصلون بذلك الوضوء فی الوقت ماشاؤ من الفرائض الخ. (۱/ ۶۷)
کما فی التاتار خانیه: وکذلك اذا کان به جراحة اذا قام سال جرده واذا قعد لا یسیل او کان شیخا کبیرًا اذا قام سلس بوله واذا قعدا استمسك صلی قاعدا برکوع وسجود الخ. (۲/ ۱۳۲)
قال فی حاشیه مراقی الفلاح: ان کان لو غسله تنجّس ثانیا قبل الفراغ من الصلوة جاز ان لا یغسله والّا فلا قال هو المختار اھ (۸۶) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27848کی تصدیق کریں
0     266
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات