میرا سوال یہ ہے کہ آج کل گھر میں کمرو ں کے ساتھ اٹیچ باتھ روم اور ٹوائلٹ ہوتے ہیں ،جہاں لوگ قضائے حاجت،استنجاء اور وضو تینوں کرتے ہیں،کیا ایسا کرناجائز ہے؟ کیا اس طرح تینوں عمل ایک ہی باتھ روم میں کرنا جائزہے؟ اصلاح فرمائیے۔
باتھ روم کے علاوہ وضو کے لئے کوئی مستقل جگہ نہ ہو تو صاف باتھ روم میں بھی وضو وغیرہ کرنا جائز اور درست ہے،البتہ اس کی عادت بنانا اچھا نہیں۔
کما فی رد المحتار: بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية والشافعية اهـ (الیٰ قوله) لأن أكل الميتة وشرب الخمر لم يحرما إلا بالنهي عنهما، فجعل الإباحة أصلا والحرمة بعارض النهي اهـ (1/105 )۔
وفی الرد المختار: (ومن آدابه) (الیٰ قوله) (والجلوس في مكان مرتفع) تحرزا عن الماء المستعمل. وعبارة الكمال: وحفظ ثيابه من التقاطر، وهي أشمل اھ (1/127)۔