بیشاب کے قطرے گرنے کی بیماری کی وجہ سے میں بمشکل پانچ وقت نمازوں میں پاکی کا وقت پاتا ہوں ، کیا ایسی صورتِ حال میں مجھے نماز پڑھنی چاہیئے؟ جبکہ بہت ہی تھوڑی نجاست لگی ہو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے کپڑوں پر لگی ہوئی نجاست درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو ایسی صورت میں بغیر دھوئے ان کپڑوں میں نماز صحیح نہ ہوگی اور اگر درہم کی مقدار یا اس سے کم نجاست لگی ہو تو ان کپڑوں میں نماز تو ادا ہوجائے گی ، تاہم اس صورت میں بھی کپڑے دھو کرنماز پڑھنا بہتر ہے ۔
کما فی الدر المختار : (و عفا) الشارع (عن قدر درهم) و إن كره تحريما ، فيجب غسله و ما دونه تنزيها فيسن و فوقه مبطل
و فی رد المحتار : تحت(قوله : و إن كره تحريما) أشار إلى أن العفو عنه بالنسبة إلى صحة الصلاة به ، فلا ينافي الإثم كما استنبطه في البحر من عبارة السراج و نحوه في شرح المنية فإنه ذكر ما ذكره الشارح من التفصيل و قد نقله أيضا في الحلية عن الينابيع ، لكنه قال بعده : و الأقرب أن غسل الدرهم و ما دونه مستحب مع العلم به و القدرة على غسله ، فتركه حينئذ خلاف الأولى ، نعم الدرهم غسله آكد مما دونه ، فتركه أشد كراهة كما يستفاد من غير ما كتاب من مشاهير كتب المذهب اھ (1/316)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0