بسا اوقات میرا اپنی بیوی سے بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے، ایک مرتبہ بحث و مباحثہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا ، اور غصہ میں میں نے کہا تم مجھ سے کیا چاہتی ہو کہ "میں تمہارے سامنے رب کی طرح مبالغہ بات بڑھا چڑھا کر پیش کروں"؟ کیا اس طرح کا کلام کرنے سے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑھتا، میرے علم کے مطابق طلاق ہی سے نکاح ٹوٹتا ہے، اب ایسی صورت حال میں میرے لئے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل یہ جانتا تھا کہ کلمہ کفر کہہ رہا ہوں تو پھر سائل دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے، اور اسکی بیوی بھی اس پر حرام ہوگئی ہے، اور اس پر تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے، لیکن اگر سائل نے خط کشیدہ الفاظ جہالت اور ناواقفیت کی بناء پر کہےہیں، تو پھر اس سے سائل کافر تو نہیں ہوا، اور نہ ہی اس پر اس کی بیوی حرام ہوئی ، البتہ اس طرح کہنے سے سائل سخت گناہ گار اور فاسق ہوا ہے، اس پر توبہ و استغفار لازم ہے، اور احتیاطاً اسے تجدید ایمان و نکاح بھی کرلینا چاہیئے۔
کما فی الھندیۃ: ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط. إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق الخ (ج2 صـ283، ط: دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1