وضو

قطروں کے مریض کی وضو اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
29690
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

قطروں کے مریض کی وضو اور نماز کا حکم

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ تقریبا دو سال سے مجھے یہ مسئلہ ہے، کہ---- ہر وقت قطرے نکلتے ہے خاص طور پہ نماز کے وقت میں، مجھے نہایت ہی شدید مشکلات کا سامنا ہے، ہر وقت مجھے پھر کپڑے دھونے پڑھتے ہیں؟ نماز کے دوران جب یہ عمل ہو جاتا ہے تو پھر مجھے دوبارہ وضو کرنا پڑھتا ہے اور کبھی کبھار تین سے چار مرتبہ کرنا پڑھتا ہیں، اور اسی وجہ سے باجماعت نماز بھی مجھ سے رہ جاتی ہے؟ برائے کرم مہربانی کر کے جلد سے جلد اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں تا کہ میں اپنا عبادت تسلی سے کر سکوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قطروں کی شکایت سائل کو اگر اس قدر ہو کہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت عذر کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کر سکے تو اس صورت میں شرعا وہ معذور کے حکم میں داخل ہو جائیگا جس کی تفصیل یہ ہےکہ مثلا ادائیگی ظہر کے لیے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط ظہر ادا کرے اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کے لیے پورا وقت انتظار کرنا ضروری نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نماز عصر با جماعت ادا کرے اس دوران اگر کچھ قطرے گر بھی جائیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب اور عشاء میں ایسا ہی کرنے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کر لیا کرے اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا جائے تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر اس دوران پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذرا سے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعا وہ معذور نہیں رہےگا اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے ،تاہم دوران نماز کپڑوں پر اگر قطرے لگ جائیں ۔ تو اس صورت میں کپڑوں کا دھونا بھی ضروری نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) (إلى قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) اھ (1/ 305)
کما فی الدر المختار: (وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى اھ (1/ 306)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29690کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات