السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرے پاؤں کے ناخن میں (infection) ہے، ڈاکٹر نے اس کا علاج بتایا جو ایک سال جاری رکھنا ہے، ویسے تو میرے ناخن میں تکلیف نہیں لیکن والدین نے کہاہے کہ علاج کرو۔
علاج کی تفصیل یہ ہےکہ جو ناخن خراب ہے، اس پر ایک دوا لگانی ہے، جس سے ناخن پر تہ (film layer) بن جاتی ہے نیل پالش کی طرح، دو دن کے بعد اس تہ کو اتار کر پھر دوا لگانی ہے اور پھر دو دن کے بعد اس دوا کی تہ کو اتار کر نئی دوا لگانی ہے، اس طرح تقریباً ایک سال،مسئلہ وضو اور غسل کا ہے کہ ظاہر ہے کہ ناخن پر پانی بہانا فرض ہے۔
اس مرض کا ایک اور علاج بھی ہے، لیکن اس میں بھی یہی مسئلہ ہے، اس علاج کی مدت تقریباً ایک مہینہ ہے، اس میں ناخن پر دوا لگاکر پٹی لگادینی ہے اور اگلے دن اُسے پانی سے دھو کر پھر پٹی لگادینی ہے، اس طرح ایک ماہ۔
ڈاکٹر کی رائے سے پہلا والا علاج بہتر ہے جیسے میں نے شروع میں بتایا کہ مجھے (انفیکشن ) کی اس وقت تو تکلیف تو نہیں، لیکن آنے والے وقت کا تو پتا نہیں۔
سوال میں مذکور دونوں صورتوں کو اختیار کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ دوائی یا پٹی لگی ہونے کی صورت میں وضو اور غسل میں مسح کرنا ضروری ہوگا ،نہ کہ دھونا۔
کما فی الدر المختار: فی أعضائه شقاق غسله ان قدرو إلا مسحه وإلا ترکه (الخ) (۱/ ۱۰۲)۔
وفی الشامیة: تحت (قوله وإلا ترکه) وإن لم یمسحه بأن لم یقدر علی المسح ترکه (إلی قوله) ولو کان فی رجله فجعل فیه الدواء یکفیه امرار الماء فوقه (الخ) (۱/ ۱۰۲)۔