کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص مرحوم عبد الغفار نے اپنے انتقال کے وقت اپنے ورثاء میں ایک بیوہ،چار بھائی،پانچ بہنیں اور ایک ماں چھوڑی ہے،جب کہ اس کی حقیقی اولاد کوئی نہیں ہے،ایک لڑکا گود لیا ہوا تھا اور والد کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے اور اپنی جائیداد میں ایک چھوٹا سامکان اور کچھ نقد رقم ہے،اب اس کی جائداد اور مکان صرف بیوہ کو دیا جائے یا دوسرے ورثاء کو بھی کچھ حصہ ملے گا؟
شخصِ مذکور کے ترکہ میں صرف بیوہ کا حق نہیں،بلکہ مرحوم کا ترکہ اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا، البتہ گود لی گئی اولاد کا اس ترکہ میں کوئی حصہ نہیں۔
کما فی التفسیر المظھری: فلایثبت بالتبنی شیئ من الاحکام البنوۃ من الارث اھ(7/283)
وفی الدر المختار: (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة كقوله - عليه الصلاة والسلام - «أطعموا الجدات بالسدس» أو الإجماع اھ(6/762)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1