ہماری اولاد نہیں ہے، میری بیوی علاج کروا رہی ہے،علاج میں حکیم نے بچہ دانی میں رکھنے کے لۓ دوائی بھی دی ہے ، حکیم نے کہا ہے کہ دوائی رکھنے کے دوران پانی استعمال نہیں کرنا اور دوائی رکھنے سے بچہ دانی سے پانی نکلتا رہتا ہے، ان حالات میں نماز کا کیا حکم ہے؟ آیا قضاء کر سکتے ہیں ؟ اور بعد میں قضاء نمازیں ادا کر لیں یا کوئی اور طریقہ ہے ؟
سائل کا سوال واضح نہیں کہ حکیم نے اس کی بیوی کو پانی پینے سے روکا ہے یا خارجی استعمال سے منع کیا ہے، اس کی وضاحت کر کے سوال کو دوبارہ بھیج دیں تو ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کیا جائےگا، جبکہ بچہ دانی سے پانی نکلنے سے وضو ٹوٹ جائےگا، ایسی صورت میں سائل کی بیوی کو چاہیۓ کہ جب یہ پانی کے قطرے نکلنا بند ہو جائیں تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے، نمازوں کو اس عذر کی وجہ سے قضاء کرنا کسی طرح جائز نہیں۔
فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب ، و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) (إلی قوله) (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض ثم يصلي) به (فيه فرضا و نفلا) اھ (1/ 305)-