نام رکھنے کا حکم

بچہ کا نام محمد ھانی رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
32771
| تاریخ :
2018-01-23
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچہ کا نام محمد ھانی رکھنا کیسا ہے؟

السلام علیکم! حضرت مفتی صاحب بچے کا نام ’’محمد ہانی‘‘ رکھنا کیسا ہے؟ حافظ ابن حجرؒ کی کتاب ’’الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ‘‘ میں تقریباً بارہ یا تیرہ صحابہ کانام ہانی آیا ہے، اس کے معنی ’’خوشگوار‘‘ کے ہیں۔ (۱) آپ سے درخواست ہے کہ اس نام کے معنی بھی بتادیں اور اس نام کے صحابہ کے نام بھی لکھ دیں، کیا میں نے اصابہ سے جو تحقیق کی ہے وہ درست کی ہے؟ اور اگر کوئی کہے کہ یہ نام کیوں رکھا تو ایسے شخص کو کیا جواب دوں؟ مجھے اور گھر والوں کو یہ نام بہت پیارا لگا ’’محمد ہانی‘‘۔
(۲) بچے پر کونسی دعائیں / آیات پابندی سے پڑھ کر صبح شام دم کرنی چاہئیں؟
(۳) بچے کی تربیت اخلاقی اور دینی اعتبار سے کس طرح کرتے ہیں اور اس کیلئے کیا کرنا ہے؟
(۴) ایک اور چیز کہ عربی میں ’’ھانیٔ ‘‘ بھی لکھا جاتا ہو اور تخفیف کے ساتھ ’’ھانی‘‘ بھی، کیا معنی تبدیل ہوجاتے ہیں اور آپ بتادیں کہ عربی میں کیسے لکھیں گے اور اردو میں کیسے لکھیں گے اور تلفظ ’’ء‘‘کے ساتھ صحیح ہے یا’’ی‘‘ کے ساتھ اور اگر ’’ہانی‘‘ یا کے ساتھ لکھا جائے تویہ تو وہی ہانی ہوگا جو صحابہ کا نام تھا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) ہانی کا معنی ہے خوش و خرم، خادم اور اس نام کے صحابہ یہ ہیں: (۱) ہانیٔ بن جزء بن نعمان، (۲) ہانی بن الحارث، (۳ ہانیٔ بن حبیب الداری، (۴) ہانیٔ بن حجر، (۵) ہانیٔ بن عدی، (۶) ہانیٔ بن عمر، (۷) ہانیٔ بن فارس الاسلمی، (۸) ہانیٔ بن مالک الہدمانی، (۹) ہانیٔ بن ہانی، (۱۰) ہانیٔ بن ہبیرہ، (۱۱) ہانیٔ بن نیار، (۱۲) ہانیٔ بن یزید، (۱۳) ہانیٔ المخزومی۔
جی ہاں! سائل کی تحقیق درست ہے اور اس نام کے رکھنے پر اعتراض کرنا غلط فہمی پر مبنی ہے۔
(۲) بچوں کی حفاظت اور بیماریوں سے شفایاب ہونے کیلئے یہ دو دعائیں پڑھ کر دم کرنا چاہئے: ٭1

(۳) والدین کو چاہئے کہ بچپن سے ہی بچوں کو غلط ماحول، ٹی وی اور گانے وغیرہ سے دور رکھیں، ان کی دینی تربیت اور نیک لوگوں کی صحبت کی فکر کریں، بری عادات جیسے غصہ، جھوٹ، دھوکہ، چوری، حرص کرنا وغیرہ اسے ان کو نفرت دلاتے رہیں، اور اچھی عادات جیسے سچائی، امانت و دیانت، سخاوت و شجاعت، ایثار و استغناء وغیرہ کی ترغیب انہیں دیتے رہیں، نیز اس کے ساتھ ساتھ اولاد کی صلاح و فلاح کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے رہا کریں۔

(۴) ہانی کا صحیح تلفظ ہمزہ کے بغیر یاء کے ساتھ درست ہے البتہ کبھی کبھار عربی قواعد و ضوابط کی رُو سے ہمزہ کے ساتھ بھی اس کا تلفظ کیا جاتا ہے مگر دونوں صورتوں میں معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، لہٰذا ہانی چاہے ہمزہ کے ساتھ ہو یا بغیر ہمزہ کے دونوں صورتوں میں یہ ایک ہی اسم ہوگا۔ ٭2

مأخَذُ الفَتوی

٭1:۱۔ اَللّٰہُمَّ رَبَّ النَّاسِ اَذْہِبِ الْبَأْسَ وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِیْ لَا شِفَآءَ اِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔
۲۔ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ بِسْمِ اللہِ خَیْرِ الْاَسْمَاءِ بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَرَبِّ السَّمَآءِ بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم۔

٭2:فی سنن الترمذی: عن ایوب بن موسی عن ابیہ عن جدہ انّ رسول اللہ ﷺ قال ما نحل والد ولدا من نَحْل افضل من ادب حسن۔ (ج۲، ص۱۶)
وفی صحیح البخاری: عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان النبی ﷺ کان یعوذ بعض اہلہ یمسح بیدہ الیمنی ویقول اللّٰہمَّ رَبَّ النّاس اذہب الباس واشفِ وانت الشافی لا شفآء الّا شفاؤک شفاءً لا یغادر سقمًا۔ (ج۲، ص۸۵۵) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32771کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات