نام رکھنے کا حکم

امارہ ،مایرہ اور زویہ نام رکھنا

فتوی نمبر :
8561
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

امارہ ،مایرہ اور زویہ نام رکھنا

محترم مفتی صاحب السلام علیکم !اللہ تعالٰی نے ہمیں یکم مئی 2010ء کی صبح بیٹی عطا کی ہے اور اب ہم اسکا نام فائنل کرنا ہے ہمارے تجویز شده نام یہ ہیں " اماره"، "مایرہ" " زویہ " براہ کرم ہمیں بتائیں کونسا نام اچھا رہے گا، ہم " امارہ پسند کر رہے ہیں اس کا معنی اور تلفظ بھی بتائیں، مہر بانی ہو گی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امارہ ( ہمزہ کے ساتھ) کا معنی امیربننا،حاکم بنناحکم دینا وغیرہ، اور"عمارہ"(عین کے ساتھ ) کا معنی آبادی، عمارت وغیرہ کے آتے ہیں، یہ نام رکھنا بھی اگر چہ جائز ہے، مگر یہ کوئی نام نہیں ،بلکہ مصدر ہیں ،اس لئے بہتر یہ ہے کہ درج ذیل ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے ۔
عائشہ، فاطمہ ، رقیہ ، زینب ، خدیجہ، آسیہ ، بریره ، آمنہ ، مریم ، ام کلثوم، عاتکہ، میمونہ، جویریہ ، ماریہ ، اور خنساء وغیرہ ۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 8561کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات