نام رکھنے کا حکم

بچوں کے نام رکھنے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
41300
| تاریخ :
2020-08-09
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچوں کے نام رکھنے کی شرعی حیثیت

محترم میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں بچوں کے نام رکھنے کی کوئی حیثیت ہے؟ کیوں کہ ہمارے خاندان میں میں نے دیکھا ہے کہ کافی لوگ فضول نام رکھتے ہیں، جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا جو کہ کچھ انگریزوں کے ناموں کے مشابہت کے ہوتے ہیں اور کچھ ہمارے اباؤ اجداد کے نام ہوتے ہیں کیا ہر طرح کے نام رکھنا ٹھیک ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسلام میں بچوں کے اچھے اور اسلامی نام رکھنے کی بڑی اہمیت اور اولاد کے حقوق میں سے ایک اہم حق شمار ہوتا ہے، نبی اکرمﷺ نے اس کی ترغیب بھی بیان فرمائی ہے اور کثیر تعداد میں قبیح اور ناپسندیدہ ناموں کو تبدیل بھی فرمایا ہے، لہٰذا نام رکھتے ہوئے اچھے ناموں کا انتخاب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح مسلم: عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير اسم عاصية وقال: «أنت جميلة» قال النوویؒ معنی ھذہ الحادیث تغییر الإسم القبیح والمکروہ إلی حسن وقد ثبت احادیث بتغییرﷺ اسماء جماعۃ کثیر من الصحابۃ. (۲/۲۰۸)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قلاتی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41300کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات