نام رکھنے کا حکم

محمد نام رکھنے کا حکم اور اس کے بارے میں وارد شدہ روایات

فتوی نمبر :
3681
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

محمد نام رکھنے کا حکم اور اس کے بارے میں وارد شدہ روایات

السلام عليكم محترم مفتی صاحب !کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ اپنے بچے کا نام " محمد " رکھنا کیسا ہے؟ جبکہ اس نام کے رکھنے پر بعض لوگ بہت اعتراض کرتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آں حضرت صلی اللہ علیه وسلم کے اسم مبارک پر اپنے بچوں کا نام "محمد" رکھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ مستحسن ہے اور یہ نام صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین سے لیکر آج تک مسلمانوں میں رائج ہے ،اور احادیث مبارکہ میں اس کا جواز بلکہ فضائل منقول ہیں اسلئے اس نام پر معترض ہونا درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في مسلم : عن جابر بن عبد الله قال ولد الرجل منا غلام فسماه محمدافقال له قومه لا ندعك تسمى باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلق بابنه حامله على ظهره فاتی به النبی صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ولدلى غلام فسميته محمدا وكنيته أبوالقاسم فقال لى قومی لا ندعک على تسمى باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم تقال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم تسموا باسمی ولا تكنو ابكنیتي فانما انا قاسم اقسم بینکم اھ (2/204)
وفی رواية :عن جابربن عبد الله ان رجلا من الانصار ولد له غلام فارادأن تسميه محمدا فاتی النبی صلى الله عليه وسلم فسأله فقال احسنت الانصار تسموا باسمی ولا تكنو بکنیتی(2/206) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3681کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات