السلام علیکم ! ایک مسئلہ درکار ہے ، ایک شخص نے وضو کیا ، امام رکوع میں تھا تو وہ جلدی سے رکوع میں شامل ہو گیا ، اعضاء وضو سے پانی ٹپک رہا تھا ، رکوع کی حالت میں پاؤں پر نظر پڑی تو تھوڑا سا حصہ خشک نظر آیا ، اس نے رکوع ہی میں وہاں ہاتھ پھیر دیا ، تو وہ جگہ تر ہوگئی ، ہاتھ بھی تر تھا ، پاؤں بھی تر تھا ، اس نے اسی نماز کو مکمل کیا ، تو کیا نماز ہوگئی یا نہیں ؟ باحوالہ جواب عنایت فرمادیں ۔شکریہ۔
وضو میں پاؤں کا جو حصہ خشک رہ گیا ، اس پر فقط گیلا ہاتھ پھیرنا کافی نہیں تھا ، بلکہ اس کا دھونا لازم تھا ، اس لئے اس شخص کا وضو نہ ہونے کی وجہ سے نماز بھی درست نہیں ہوئی ہے ، اس پر اس نماز کو لوٹانا لازم ہے۔
کما فى الفتاوی الھندية : و في شرح الطحاوي أن تسييل الماء شرط في الوضوء في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء و عن أبي يوسف - رحمه الله - أن التقاطر ليس بشرط ففي مسألة الثلج إذا توضأ به إن قطر قطرتان فصاعدا يجوز إجماعا و إن كان بخلافه فهو على قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا يجوز و على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز كذا في الذخيرة و الصحيح قولهما ، كذا في المضمرات اھ (1/3)۔