السلام علیکم! میری ایک آنٹی فروری ۲۰۱۸ء میں وفات پاگئی، کچھ دن پہلے ان کے بیٹوں نے جس دن انتقال ہوا ، اس دن انہیں نمازِ جنازہ کے بعد ان کے والد کی قبر میں دفنایا اور اگلے دن میت کو وہاں سے نکالا، قبر پکی کرنے کی نیت سے ، تو آندھی طوفان آگیا اور میت کو دوبارہ قبر میں رکھا اور اگلے دن دوبارہ یہی عمل کیا ، ان کا یہ عمل صحیح ہے یا غلط ؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں ۔
میت کو قبر میں دفنانے اور مٹی ڈالنے کے بعد دوبارہ نکالنا جائز نہیں ، بلکہ یہ میت کی بے حرمتی ہے، اس لۓ مذکور خاتون کے بیٹوں نے جو کچھ کیا ہے، وہ خلافِ شرع کام کیا ہے، اُن پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس عمل سے توبہ کریں اور آئندہ اس طرح کے عمل سے احتراز کریں، جبکہ قبر کو پکی کرنا بھی خلافِ سنت اور ناجائز ہے، پھر اس خلافِ سنت کام کے لۓ دوسرا خلافِ شرع کام کرنا د ہرے گناہ کا باعث ہے۔
في الدر المختار : (و لا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي اھ (2/ 237)۔
و فى حاشية ابن عابدين : تحت (قوله إلا لحق آدمي) احتراز عن حق الله تعالى كما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع على غير يمينه أو إلى غير القبلة فإنه لاينبش عليه بعد إهالة التراب اھ (2/ 238)۔