جب وضوء سے پہلے پیشاب کرتا ہوں تو پیشاب کے بعد پیشاب کے قطرے نکلتے رہتے ہیں ,اس لئے میرے کپڑے ناپاک رہتے ہیں، زیادہ تر تو میں کپڑے اس جگہ سے گھر میں ہی دھولیتا ہوں ,لیکن جب کبھی بھی باہر جاتا ہوں تو دھو نہیں سکتا , اس بیماری کے لۓ میں علاج کروارہا ہوں، اب میں کیا کروں؟ مجھے نماز پڑھنی ہوتی ہے تو اسی کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟
صورتِ مذکورہ میں محض کچھ دیر تک قطرے آنے سے سائل شرعاً معذور نہیں کہلائے گا ، البتہ اگر کسی نماز کا پورا وقت اس حالت میں گزرے کہ برابر قطرہ آتا رہے اور اتنی مہلت بھی نہ مل سکے کہ وضو کرکے مکمل طہارت کے ساتھ صرف فرض نماز پڑھ لے تو پھر معذور ہوگا۔
تاہم سائل دورانِ سفر پیشاب جذب کرنے کیلئے اگر کسی کپڑے وغیرہ کا استعمال کرلے اور وقتِ نماز سے پہلے اُسے نکال کر پھینک دے تو ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی الدر : (ان استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضۃ ) بأن لا یجد فی جمیع وقتها زمنا یتوضأ و یصلی فیه خالیا عن الحدث . (ج۱، ص۳۰۵)۔
و فیه ایضًا : (و صاحب عذر من به سلسل) بول لا یمكنه امساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح). الخ (ج۱، ص۳۰۵)۔
و ایضًا : (و إن سال علی ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا یغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أی الصلاة . (ج۱، ص۳۰۶)۔