وضو

پیشاب کرنےکے چند منٹ بعد چند قطرے نکلنے لگتے ہیں

فتوی نمبر :
3400
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

پیشاب کرنےکے چند منٹ بعد چند قطرے نکلنے لگتے ہیں

محترم جناب مفتی صاحب!
۱۔ پیشاب کرنےکے چند منٹ بعد چند قطرے نکلنے لگتے ہیں جبکہ میری کوشش پوری طرح فارغ ہونے کی ہوتی ہے، اس سے میرے دل میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں کہ بعد میں قطرے نکلنے کی وجہ سے ناپاک رہا اور نماز صحیح ادا نہیں ہوئی؟
۲۔ میری گیس کی شکایت ہے کیا دوران نماز ہوا خارج ہونے کی صورت میں میں نماز پوری کرسکتاہوں یا سرے سے پڑھنی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ سائل کو مذکور شکایت پیشاب کے بعد کچھ وقت تک رہتی ہو تو اُسے چاہیے کہ نماز سے اتنی دیر پہلے فارغ ہولیا کرے کہ اُسے قطرے ٹپکنے کا اطمینان ہوجائے اور اس کے بعد وضو کرکے نماز ادا کرسکے۔
۲۔ جب تک گیس کی بُو یا آواز کے ذریعے اس کے خروج کا یقین نہ ہوجائے اس وقت تک نماز کو جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن جب مذکورہ طریقوں سے اس کے خروج کا یقین ہوجائے تو پھر وضو جاتا رہے گا ،ا س وقت از سر نو وضو کرکے نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی صحیح البخاری: عن عباد بن تمیم عن عمه انه شکٰی الی رسول اللہﷺ الرجل الذی یخیل الیه یجد الشئ فی الصلٰوة فقال لا ینفتل اولا ینصرف حتی یسمع صوتا او یجد ریحًا. (۱/ ۲۵)۔
وفی فتح الباری: ودل حدیث الباب علی صحة الصلوٰة مالم یتقین وقال النّووی هذ الحدیث اصل فی حکم بقاء الاشیاء علی اصولها حتی یتیقن خلا ذلك اھ (۱/ ۳۱۶) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسیب احمد حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 3400کی تصدیق کریں
0     220
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات