السلام علیکم! مفتی صاحب جمعہ کے بیان میں امام صاحب نے ارشاد فرمایاکہ " کسی کے دل میں علماء کا بغض (برائی) ہوگی، تو ایسے شخص کا ایمان برقرار نہیں رہے گا" اس شخص کو ایمان کی تجدید کرنی پڑے گی، اس کا ایمان مکمل نہیں ، آپ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں؟ آپ کے قیمتی وقت کا شکریہ
علم" اللہ کی صفت ہے، اس لئے اگر کوئی شخص محض عالم دین سے اس کے عالم ہونے کی وجہ سے بغض رکھتا ہو تو یہ علم کی توہین اور حقارت ہے، جس کے ہوتے ہوئے آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا، ہاں اگر کوئی شخص کسی عالم دین سے کسی دنیوی یا اخروی سبب سے بغض رکھتا ہو، تو کسی مسلمان کیساتھ بغض رکھنا اگرچہ گناہ کا کام ہے، مگراس کی وجہ سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
کما فی شرح الاکبر: وفی الخلاصۃ من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر، قلت: الظاھر انہ یکفر لانہ اذا ابغض العالم من غیر سبب دنیوی او اخروی فیکون بغضہ لعلم الشریعۃ ولاشک فی کفر من انکرہ ، فضلا عمن ابغضہ الخ (صـ173)۔
وفی الشامیۃ: [تنبيه] ذكر في شرحه على الملتقى أيضا أنه لو على وجه المزاح يعزر فلو بطريق الحقارة كفر؛ لأن إهانة أهل العلم كفر على المختار الخ (ج4 صـ72، ط: دار الفکر)۔
واللہ اعلم بالصواب
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1