وضو

ہوا خارج ہونےکے محض شک سے وضو کا حکم

فتوی نمبر :
34952
| تاریخ :
2018-07-29
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

ہوا خارج ہونےکے محض شک سے وضو کا حکم

مفتی صاحب!
میں ایک مسئلہ پر رہنمائی چاہتا ہوں، میں اس وقت حج کے مبارک سفر پر ہوں، میں کافی عرصہ سے ایک مسئلہ میں مبتلا ہوں، خاص طور پر جب سے میں یہاں ہوں، مسئلہ بہت بڑھ گیا ہے، میں جب بھی نماز پڑھتا ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہواخارج ہو گئی ہے، اور میں نے کافی نمازیں اس ڈر سے لوٹائی ہیں کہ نماز قبول نہیں ہوئی ، بہر حال مسئلہ اس طرح ہے کہ ، جیسے جب آپ پیٹ خراب ہوتے ہوئے حرکت محسوس کرتے ہیں، تو آپ کے جسم کے نچلے حصہ میں، کولہے کے پاس بھی حرکت محسوس کرتے ہیں، اس وقت کیا حکم ہو گا کہ جب آپ حرکت محسوس کریں، مگر آپ کو یقین نہ ہوں کہ پیچھے سے ہوا خارج ہوئی ہے یا یہ پیٹ کی حرکت ہے، مہربانی کر کے مشورہ دیں، میں اس سے پریشان ہوں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نماز میں میری توجہ بہت خراب ہے، میں بہت ڈرتا ہوں، جب میں یہ حرکت محسوس کرتا ہوں، آپ کے مشورہ کی پذیرائی کی جائے گی، اس سے ذہن پر سکون محسوس کروں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جب تک ہوا خارج ہونے کا یقین نہ ہو جائے،تو محض ہو ا خارج ہونے کے شک کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا سائل کو وضو کرنے کے بعد جب تک ہوا خارج ہونے کا یقین نہ ہو ،تو محض شک کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اس لیے سائل کو شکوک و شبہات کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فى الفتاوى الهندية: ومن شك في الحدث فهو على وضوئه ولو كان محدثا فشك في الطهارة فهو على حدثه ولا يعمل بالتحري كذا في الخلاصة اھ (1/ 13)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عمرفاروق شیخ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34952کی تصدیق کریں
0     1280
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات