وضو

دورانِ نماز پیشاب کے قطرے کا شک آنا

فتوی نمبر :
35230
| تاریخ :
2018-09-06
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دورانِ نماز پیشاب کے قطرے کا شک آنا

السلام علیکم! شادی سے پہلے میں گناہ میں مبتلا تھا جو کہ مستقل طور پر مذی کے قطرات آنے کا سبب بن چکا ہے، نماز سے پہلے جب مجھے یقین ہوجائے کہ قطرے آنا بند ہوگئے تو پھر میں وضو بناکر نماز پڑھ لیتا ہوں، اب یہاں دو پہلو ہیں:
(۱) اگر میں گھر پر ہوں تو میں نماز کے بعد چیک کرلیتا ہوں، اگر دورانِ نماز دوبارہ قطرے آئے ہیں، تو میں فی الفور دوبارہ وضو کرکے نماز کا اِعادہ کرلیتا ہوں۔
(۲) اور اگر جب میں گھر سے باہر آفس وغیرہ میں ہوں تو میں یہ چیک نہیں کرسکتا کہ میرا وضو ہے یا قطرے آنے کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے، میں یہ خیال کرتا ہوں کہ میرا وضو نہیں ٹوٹا تاکہ مزید شکوک و شبہات میں نہ پڑوں، اور میں اس نماز کا اِعادہ بھی نہیں کرتا، اور یہ مجھے نہیں معلوم کہ دوسری صورت حال کے مطابق میں نے کتنی نمازیں ادا کی ہے؟ بلکہ اندازے کے مطابق ۲۸ ماہ سے اس کیفیت میں مبتلا ہوں، اب مذکورہ بالا صورت حال میں آپ کی کیا رہنمائی ہے؟ اگر مزید کوئی معلومات درکار ہوں تو مجھے بتائیں۔ جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور صورتحال میں جب تک سائل کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ دورانِ نماز قطرے آنے کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹ چکا ہے، تو محض وہم کی وجہ سے اس کی نمازوں کے فاسد ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، تاہم دورانِ نماز جب اس طرح کی کوئی کیفیت محسوس ہو کہ جس سے قطرے آنے کا یقین ہوجائے، تو ایسی صورت میں علیحدہ ہو کر جسم اور کپڑوں کے ناپاک حصے کو دھو کر دوبارہ وضو کرکے نماز کا اعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی قواعد الفقه : الأصل ان ما ثبت بالیقین لا یزول بالشك . اهـ
و تحته : ان من شك فی الحدث بعد ما تیقن بالوضوء فهو علی وضوئه ما لم یتیقن بالحدث . الخ (اصول الكرخی: ص۱۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35230کی تصدیق کریں
1     1343
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات