جناب نکاح کے حوالہ سے آپ کی رہنمائی چاہیے تھی، ایک لڑکی جو کہ پڑھی لکھی ہے، اس کے والد فوت ہو چکےہیں، اس نے اپنے چچا کی موجودگی میں اپنے نکاح کی مجھے اجازت دی، اور نکاح نامے کے فارم کو پورا پڑھ کر مجھے سائن کر کے دیا، میں وہ فارم لے کر ایک مولوی کے پاس گیا، مولوی صاحب نے دو گواہوں کی موجودگی میں مجھ سے ایجاب و قبول کروایا، اور میں نے تین مرتبہ قبول کیا، اور کچھ ٹائم کے بعد وہ لڑکی رخصت ہو کر میرے گھر پر بھی آگئی، تو کیا اس طرح ہمارا نکاح ہو گیا یا نہیں ؟
مذکور طریقہ سے کیا گیا نکاح شرعا درست منعقد ہو چکا ہے ۔
كما في الهداية: واذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجه من نفسه فعقد بحضرة الشاهدين جاز اھ (2/ 322)
وفي الدر المختار: (كما للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر اھ (3/ 98)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0