السلام علیکم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ آن لائن نکاح کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر لڑکا باہر ہے تو وہ اگر یہاں پاکستان میں کسی کو اپنا وکیل مقرر کرتا ہے تو کیا وکیل لڑکے کے دستخط کر سکتا ہے، اور نکاح نامے پر انگوٹھا کس کا لگایا جائے گا اور ایجاب و قبول وکیل کرے گا یا لڑکے کو ویڈیو کال پر قبول کرنا لازمی ہو گا؟
واضح ہو کہ لڑکی یا اس کا وکیل مجلسِ نکاح میں موجود ہو، لیکن لڑکا مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو، بلکہ ملک سے باہر ہو (جیسا کہ صورتِ مسئولہ میں ہے) تو اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ وہ از خود ایجاب وقبول کرنے کے بجائےمجلسِ نکاح میں موجود کسی شخص کو اپنی طرف سے نکاح کا وکیل مقرر کردے اور وہ وکیل اس کی طرف سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرلے تو اس طرح نکاح شرعاً درست ہوجائے گا، لیکن کسی کو اپنی طرف سے وکیل مقرر کیے بغیر از خود ویڈیو کال پر ایجاب وقبول کرنا شرعاً معتبر نہ ہوگا اور اس طرح کیا ہوا نکاح مجلس متحد نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہ ہوگا، لہذا اس طریقہ کار سے احتراز لازم ہے، جبکہ وکیل لڑکے کی اجازت سے نکاح نامہ پر اس کے دستخط کرسکتا ہے۔
ففی الدر المختار: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (3/ 21)
وفیه ایضا: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر اھ (3/ 14)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0