کیا مرد عورت اپنا نکاح خود پڑھ سکتے ہیں بغیر کسی گواہ کے ؟
واضح ہو کہ نکاح کے درست منعقد ہونے کے لیے مجلسِ نکاح میں شرعی گواہان کا موجود ہونا اور ایجاب وقبول سننا شرعاً لازم ہے، لہذا مرد وعورت کا شرعی گواہان کے بغیر از خود اپنا نکاح کرنا شرعا جائز نہیں، بلکہ یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہ ہوگا، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔ جبکہ لڑکا و لڑکی کا والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا انتہائی بے شرمی اور بڑی جسارت پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور چونکہ اس طرح چھپ کر کیا ہوا نکاح والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے، اس لیے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور اگر لڑکا ،لڑکی کا کفو (ہم پلہ) نہ ہو تو اکثر علماء کے ہاں وہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا، اس لیے نکاح جیسے زندگی کے اہم فیصلے از خود کرنا مناسب اور عقلمندی نہیں جس سے احترازم لازم ہے۔
ففی الدر المختار: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (3/ 21)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0