السلام علیکم! میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا ہے ،وہ اس طرح کیا کہ میں نے خود اس لڑکی کو میسج کیا کہ میں اتنے مہر مؤجل میں آپ کو اپنے نکاح میں لیتا ہوں کیا آپ کو قبول ہے ؟ اس نے لکھا قبول ہے ،کیا ہمارا نکاح ہوگیا ؟ مجھے صحیح رہنمائی فرمائیں، کیونکہ اب اس کے گھر والے کہیں اور اس کا نکاح کر رہے ہیں ،کیا اس کا نکاح وہاں ہوجائے گا ؟
واضح ہو کہ نکاح کے درست منعقد ہونے کیلئے ایجاب و قبول کا ایک مجلس میں ،دو عاقل بالغ گواہوں کی موجودگی میں ہونا شرط ہے ، جس کو دونوں گواہ سنیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں دونوں شرطیں مفقود ہونے کی وجہ سے یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ، بلکہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہی ہیں،سوال میں مذکور لڑکی کا نکاح کسی اور سے ہوجائے گا ،اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں -
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0