کیا ایک جوان لڑکا اور لڑکی کا نکاح تنہائی میں مہر کی رقم مقرر کر کے مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ ادا کرنے سے نکاح ہو جاتا ہے؟ خیال رہے کہ دونوں اپنی اپنی ذمہ داری سے واقف ہیں، ایجاب اور قبول کے الفاظ میں اللہ تعالی کو گواہ بنانا کہ فلاں بنت فلاں سے نکاح کرتا ہوں اس کو تین بار لڑکے نے دہرایا اور پھر اسی طرز پر لڑکی نے دہرایا۔
واضح ہو کہ نکاح کے درست منعقد ہونے کیلئے ایجاب و قبول کرتے وقت شرعی گواہوں ( دو مسلمان، عاقل، بالغ مرد یا ایک مرد دو عورتوں) کا موجود ہونا شرعاً ضروری ہے ، لڑکے، لڑکی کا گواہواں کی موجودگی کے بغیر فقط اللہ تعالی کو گواہ بنا کر نکاح کر ناشرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في سنن الترمذى: روى اصحاب قتادة عن جابر بن زيد عن عباس لا نكاح الا ببينة۔الحدیث (3/403)
وفي الدر المختار: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرین) او حر وحرتين مكلفين سامعين قولهما معا) على الاصح (فاهمين) انه نكاح على المذهب۔اھ (1/ 178)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0