السلام علیکم ! حضور ایک مسئلہ کا پوچھنا تھا ،لڑکا لڑکی فون پر بات کرتے تھے اور انہوں نے فون پر ہی کہا کہ نکاح کرتےہیں،بغیر کسی گواہ یا نکاح خواہ کے قبول کرلیا،جبکہ لڑکی کی شادی بعد میں کسی اور جگہ شریعت کے مطابق گھر والوں کی موجودگی میں ہوگئی ہے،تو کیا پہلے والا نکاح ہوگیا تھایا نہیں؟
واضح ہو کہ نکاح کی صحت ودرستگی کے لیے لڑکے،لڑکی یا ان کے مقررکردہ وکیلوں اور دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد ،دو عورتوں کا ایک ہی مجلسِ نکاح میں بطورِ گواہ موجود ہونا ضروری ہےلہذا سوال میں ذکرکردہ بیان کے مطابق لڑکے،لڑکی کا موبائل فون پر یہ کہہ دینے "نکاح کرتے ہیں یا قبول ،قبول ہے" سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہواتھا،چنانچہ اس کے بعد لڑکی کے اہلِ خانہ نے شریعت کے مطابق لڑکی کا جو نکاح کردیا ہے وہ درست منعقد ہوچکا ہے،اور دونوں کے لئے میاں بیوی کا حیثیت سے رہنا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدرالمختار: (وشرط سماع کل من المتعاقدین لفظ الآخر) لیتحقق رضاھما (و)شرط (حضور) شاھدین (حرین) أو حروحرتین (مکلفین سامعین قولھما معا) الخ(ج3ص21/22کتاب النکاح ط:سعید )۔
وفی الھدایۃ: النکاح ینعقد بالایجاب والقبول بلفظین یعبرھما عن الماضی الخ(2 ص4 کتاب النکاح ط: انعامیہ)۔
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0