اگر مرد اور عورت ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر ہوں اور دو گواہ فون کال پر ہوں ، ایجاب اور قبول ہوجائے ،تو کیا اس طرح شادی ہو جاتی ہے ؟
واضح ہوکہ نکاح کے درست منعقد ہونے کے لئے لڑکا لڑکی یا ان کی طرف سے مقررکردہ وکیل اور شرعی گواہان کا مجلس نکاح میں موجود ہونااور ایجاب وقبول سننا لازم ہے ، چنانچہ اگر لڑکا لڑکی ایک مجلس میں ایجاب وقبول کریں، اور دو گواہ فون پر اس ایجاب وقبول کو سن لیں ،تو مجلس متحد نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح نکاح درست منعقد نہیں ہوگا ، لہذا مذکور طریقہ سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال الخ ( ج 3 ص 14 کتاب النکاح ط سعید ) ۔
وفیہ ایضاً: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)الخ ( ج3 ص 22 کتاب النکاح ط سعید)۔
وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانيةالخ ( ج 1س 194 الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا ط ماجدیہ)۔ واللہ اعلم
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0