السلام علیکم! سوال یہ ہے کہ مسالک کے آپس کے اختلافات کی بنیاد پر کیا کسی شخص کو جہنم میں بھیجا جا سکتا ہے ؟ مثال کے طور پر دو بندے ہیں، دونوں اشخاص نیک نیت اور خلوص دل سے نماز روزے، زکوٰۃ وغیرہ کے پابند ہیں، حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو، نہ ہی کسی گناہ کبیرہ میں ملوث رہے ہوں، حقوق اللہ اور حقوق العباد پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوں، لیکن دونوں میں ایک شخص اہل سنت والجماعت (سنی العقیدہ ) ہے اور دوسرا شخص مسلک اہل حدیث سے تعلق رکھتا ہے؟ دونوں اشخاص اپنے مسالک کے بنیادی عقائد پر قائم ہیں تو قیامت کے دن دونوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا ؟ کیا دونوں ہی جنت جائیں گے یا کوئی ایک جنت میں جائے گا؟ جزاک اللہ خیرا
اگر کوئی شخص قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کا پابندہو اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتاہو تو محض مسلکی یا فروعی اختلاف کی وجہ سے اسے جہنمی قرار دینا بڑی جسارت ہے، جس سے بہرحال اجتناب لازم ہے۔
في تفسیر الجلالین: وقال في المؤمنين ﴿إن الله يدخل الذين آمنوا وعملوا الصالحات جنات تجري من تحتها الأنهار يحلون فيها من أساور من ذهب ولؤلؤ﴾(ٳلی قوله)ولباسھم فیھا حریر ، ھو المحرم لبسه علی الرجال في الدنیا اھـ (۱/۲۸۰) والله اعلم بالصواب!