کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میں دیر لوئر کارہائشی ہوں، لیکن میرا اسلام آباد میں کاروبار ہے اور میں دو سال سے وہاں کام کررہا ہوں، لیکن میں نے کبھی اسلام آباد میں دس دن سے زیادہ دن نہیں گزارے، اب مجھے کچھ دوست بتارہے ہیں کہ تم پوری نماز ادا کرو سفرانہ نماز ادا نہ کرو، تو میرا سوال یہ ہے کہ میں پوری نماز ادا کروں یا سفرانہ نماز اسلام آباد میں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر اسلام آباد میں دورانِ تجارت ایک بار بھی پندرہ دن یا اس سے زائد رہائش اختیار کی ہو یا پندرہ دن رہائش اختیار کرنے کی نیت کی ہو تو سائل پر پوری نماز پڑھنا واجب ہے اور اگر اسلام آباد میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ کبھی نہ رکے ہوں اور نہ رکنے کا ارادہ کیا ہو تو سائل پر قصر پڑھنا واجب ہے۔
كما في الهندية: ولا يزال حكم السفر حتى ينوى الاقامة في بلدة او قرية خمسة عشر يوماًاو اكثر - اھ (ج ۱ ص ۱۳۹) -
و فی البحر الرائق: تحت قوله (او نوى عسكر ذلك) الى (قوله) و لهذا قال اصحابنا في تاجردخل مدينة لحاجة ونوى ان يقيم خمسة عشر يوماً لقضاء تلك الحاجة لا يصير مقيماً لانه متردد بين ان يقضى حاجته فيرجع - اھ (۱۳۳/۲)-
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4