میرے شوہر پانچ سال پہلے مجھ سے نکاح کرکے پنجاب چلے گئے اور نہ رخصتی کر رہے ہیں نہ کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں اور نہ طلاق دے رہے ہیں ، اور پانچ سال سے واپس بھی نہیں آئے، میں شدید تکلیف میں ہوں مالی طور پر،ازدواجی طور پر، وہ انسان کسی بھی طرح ساتھ نہیں دے رہا ۔رہنمائی فرمائیں !
سائلہ کو چاہیئے کہ اولاً اپنے شوہر سے رابطہ کر کے اپنا گھر بسانے کی پوری کوشش کرے اگر اس کوشش میں کامیابی ہوئی تو بہتر ، ور نہ برادری کے معزز حضرات کے ذریعہ اپنے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے، تاہم اگر باوجود کوشش کے رخصتی اور نبا ہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ،تو سائلہ کچھ مال (حق مہر وغیرہ ) کے عوض شوہر سے طلاق یا خلع حاصل کر سکتی ہے، اگر شوہر اس کے لئے بھی تیار نہ ہو، اور باوجود قدرت کے رخصتی اور دیگر حقوق ادا نہ کرتا ہو، اور نہ ہی طلاق دیتا ہو، تو ایسی صور ت میں شوہر حکما متعنت شمار ہو گا، لہذا ایسی مجبوری میں عورت کو نان و نفقہ اور حقوق کی بنیاد پر بذریعہ قضاء قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما إن الله كان عليما خبیراً (النساء ۳۵) وقال أيضا: فإن خفتم أن لا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به (البقرة ٢٢٩)
وفي الهندية: إذا تشاق الزوجان وجافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال یخلعھابه فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة باتنة ولزمها المال الخ (۲۸۸/۱)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1