(۱) وضو کرتے ہوئے ایک ہی جگہ بیٹھ کر تمام اعضاء دھونے کے بجائے چہرہ اور ہاتھ ایک جگہ بیٹھ کر دھوئےا ور پھر منٹوں کے وقفہ کے ساتھ دوسری جگہ پر پاؤں دھوئے تو اس صورت میں وضو ہوگا کہ نہیں؟
(۲) عید الاضحیٰ کی نماز ۱۰ ذی الحجہ کو ہی ادا کرنی ہے یا ۱۰، ۱۱، اور ۱۲ میں سے کسی بھی دن ادا کی جاسکتی ہے؟
(۱) اس طرح کرنے سے بھی اگرچہ وضو درست ہوجاتا ہے مگر بلا عذر اس طرح کرنا خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے اس سے احتراز لازم ہے۔
(۲) عام حالات میں عید الاضحیٰ کی نماز دس ذی الحجہ کو ہی ادا کرنی چاہیئے تاکہ سنت پر عمل ہوسکے تاہم اگر کسی عذر کی وجہ سے دس ذی الحجہ کو ادا نہ کرسکے تو گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کو بھی پڑھنے کی گنجائش ہے اس کے بعد نہیں۔
کما فی العالمگیریة: ومنھا الموالاة وھی التتابع وحدہ ان لا یجف الماء علی العضو قبل ان یغسل ما بعدہ فی زمان معتدل - الی ان قال – وانما یکرہ التفریق فی الوضوء اذا کان بغیر عذر اما اذا کان بعذر بان فرغ ماء الوضوء فیذھب لطلب الماء او ما اشبہ ذٰلک فلا بأس بالتفریق علی الصحیح الخ (ج۲، ص۸)
و فی الدر: واحکامھا احکام الاضحٰی لکن ھنا یجوز تاخیرھا الی اٰخر ثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراهة وبہ ای بالعذر بدونھا الخ
وفی الشامیة: یجوز تاخیرھا الخ وتکون فیما بعد الیوم الاول قضاء ایضا کما فی الاضحیة الخ(ج۲، ص۱۷۶)
وفی الھدایة: فان کان عذر یمنع من الصلوٰة فی یوم الاضحیٰ صلاھا من الغد وبعد الغد ولا یصلیھا بعد ذلک لان الصلوٰة موقتہ بوقت الاضحیة فیقید بایامھا اھ (ج۱، ص۱۷۴)