تدفین

بلا کسی عذر کے قبر توڑ کر اس میں دوسری میت دفن کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
38518
| تاریخ :
2019-10-21
عبادات / جنائز / تدفین

بلا کسی عذر کے قبر توڑ کر اس میں دوسری میت دفن کرنے کا حکم

میرے بیٹے کی قبر کو توڑ کر میرے سابقہ شوہر نے اپنے والد کی قبر بنوا دی ، بچہ دس سال کا تھا اور پانچ سال پہلے انتقال ہوا تھا، کیا یہ جائز عمل ہے، جبکہ ان کے پاس پیسے اور جگہ دونوں کی کمی نہیں تھی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے اگر میت کو دفن کرنے کے لیے کوئی اور جگہ میسر تھی اور اس کے علاوہ بھی کوئی مجبوری نہیں تھی تو سائلہ کے سابقہ شوہر کا سائلہ کے مرحوم بیٹے کی قبر کو توڑ کر اس میں اپنے والد کو دفن کر دینا مکروہ عمل ہے، اور قبر کی بے حرمتی کے مترادف ہے، اس پر لازم ہے کہ اس عمل پر بصدق دل تو بہ کرے اور آئندہ کے لیے ایسے افعال سے مکمل اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله وحفر قبره إلخ) شروع في مسائل الدفن (الى قوله) فالأولى إناطة الجواز بالبلى إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره اھ (2/ 234)
وفي الفتاویٰ التاتارخانية: واذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لان الحرمة باقية اھ ( ۳/ ۴۵ ) -
وفي الفتاوى الهندية: ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة اھ (1/ 166)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید نبی جان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38518کی تصدیق کریں
0     706
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات