جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم!
خاندانی وراثتی جائیداد کے معاملات کچھ اس طرح سے ہیں کہ میرے والد گرامی نے اپنے والدین کے انتقال کے بعد اپنی چار بہنوں کا حصہ کچھ بھی کر کے ان سے اپنے نام لکھوا لیا، بعد ازاں سب سے چھوٹی بہن نے حالات اور مجبوری آڑے آنے کی وجہ سے پہلے لڑ جھگڑ کر اور بعد میں منت سماجت سے اپنا حصہ لے لیا؟
اب والد صاحب کا اپنا جھکاؤ کیوں کہ زیادہ تر اپنی تین بیٹوں اور داماد کی طرف ہے اور وہ کاروباری معاملات میں ان کی معاونت اور لین دین بھی کرتے ہیں اور اپنی اس خاندانی جائیداد میں سے ایک مخصوص ترکے کے مطابق اپنی تینوں بیٹوں کو ادا کر چکے ہیں، جبکہ بیٹوں پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہوئے فیصلہ صادر کرنا چاہتے ہیں تو کیا شریعت کی رو سے وہ مکمل اختیار رکھتے ہیں؟
اور سب سے بڑی بہن [ میری پھپی جان] انتقال کر گئی، جبکہ ان کے شوہر اور بچے اس بات کا اظہار کر چکے ہیں، کہ میرے والد نے ان کی مرحومہ ماں کا حق کھایا ہے ، اس کے علاوہ درمیان والی دو بہنیں میری باقی پھوپھیاں بھی اس طرح کا تذکرہ کر چکی ہیں کہ ہم نے تو کچھ نہیں کہا اور اپنے بھائی کے حق میں جائیداد سے دستبردار ہو گئیں اور ہمارا مارا ہوا حق ہمارا بھائی اب اپنے بچوں کو دے گا۔
مسئلہ یہاں یہ در پیش آگیا ہے کہ ایک خلش دل میں ہے کہ حقداروں کا حق تو آخر مارا گیا ہے اس سارے معاملے میں چاہے زور زبردستی رعب یا دبدبہ سے، بہلا پھسلا کے یا بات چیت کر کے ، تو کیا میں بیٹا بھی اس حق مارے ہوئے حصے پر قابض ہو کر کہیں جہنم کا سامان تو نہیں اکھٹا کر بیٹھوں گا؟ والد صاحب کی طبیعت کی کڑواہٹ اور مزاج کی سختی کی وجہ سے کوئی بھی ان سے اس مسئلے پر بات کرنے کی حماقت نہیں کرنا چاہتا ؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں؟ شکریہ!
مسئولہ صورت میں سائل کے والد کی اپنے حصہ کے بقدر تو تقسیم یا اپنے بیٹوں وغیرہ کو ہبہ کر نا شرعاً درست ہے ، اس سے زائد میں نہیں، بلکہ یہ زائد حصہ اصل ورثاء (سائل کی دو زندہ پھوپھیوں اور مرحومہ پھو پھی کی اولاد ) کو لوٹاناشرعاًضروری ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)۔
وفيه ايضاً: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه اھ (2/ 926)۔
وفيه ايضاً: وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر» (2/ 917)۔
و في الفتاوى الو لوالجية: نهر مغصوب ، فجاء انسان فاراد التوضى أو الشرب منه ان لم يحوّل الغاصب النهر عن موضعه جاز؛ لان الناس شركاء في الماء، وان حول النهر عن موضعه يكره لانه انتفاع بعين ملك الغير، فكان مكروها كالصلاة في الأرض المغصوبة. اھ (۲/ ۴۰۵ مط : دار الكتب العلمية)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1