السلام علیکم معزز مفتیان کرام اللہ تعالی آپ لوگوں کی زندگی میں برکت عطا فرمائے .آمین ؟
۱: کریڈٹ کارڈ بنوانا اور استعمال میں لانا شرعی لحاظ سے کیسا ہے ؟
۲: کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مکان، کار، فریج وغیرہ بھی دیتے ہیں اگر یہی کار مکان وغیرہ ان سے اقساط پر لیکر نقد پر فروخت کر کے اپنی دوسری ضرورت پوری کریں تو کیسا ہے ؟
واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ کا بنوانا اور اسے استعمال کرنا عام حالات میں جائز نہیں ، کیونکہ کریڈٹ کارڈ لیتے وقت صارف اس بات پر آمادگی کا اظہار کرتا ہے، کہ لیٹ پیمنٹ کی صورت میں سود ادا کریگا، اور اس معاہدہ پر دستخط بھی کرتا ہے، اس لئے اس سے شرعاً بھی احتراز لازم ہے، البتہ اگر سائل ناگزیر حالات میں کریڈٹ کارڈ حاصل کر لیتا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ بر وقت ادائیگی کرے تاکہ عملی طور پر سود میں ملوث نہ ہونا پڑے۔
جبکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مکان، کار وغیرہ قسطوں پر خرید کر نقد پر فروخت کر کے اپنی دوسری ضروریات کو پورا کرے تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہو گا بشر طیکہ مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ کیا جائے:
(۱) مجلس عقد ہی میں طے ہو کہ معاملہ ادھار اور قسطوں کا ہے۔ (۲) اور ہر قسط کی مالیت بھی طے کر لی جائے۔ (۳) کسی بھی قسط کی تاخیر کی صورت میں اضافی چارجز لاگو نہ کیا جائے۔ (۴) قسطوں کی جلد ادائیگی کی صورت میں ثمن میں سے کمی کی شرط بھی نہ ہو ۔
چنانچہ مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو یہ معاملہ شرعاً ناجائز ہو جائیگا، اس لئے ان تمام شرائط کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔
ففي سنن الترمذي: عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل [ص:528] سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك» (3/ 527)
و في فقه البيوع: وکما یجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة، کذلك یجوز أن یکون أداء الثمن بأقساط بشرط أن تکون آجال الأقساط ومبالغها معینة عن العقد اھ (۱/ ۵۳۹)
و فيه أیضا: وأخرج ابن أبی شیبة عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: لا بأس أن یقول المسلعة: هی بنقد بكذا وبنسیئة بکذا اھ (۱/ ۵۴۲) واللہ اعلم بالصواب
كما في فقه البيوع: فهل يجوز للمسلم ان يأخذ البطاقة و يوقع على العقد الذي فيه هذا الشرط بنية انه سيدفع الفواتير في حينها قبل ان تفرض عليها زيادة ربوية ولا يطبق هذا الشرط فعلا ؟ فيه خلاف للعلماء المعاصرين، فقال بعضهم ان مجرد التوقيع على هذا الشرط دخول في عقد محرم ، فلا يجوز ، ولو كان نية عدم تطبيقه فى الواقع وقال آخرون ان حامل البطاقة ان كان على يقين بان هذا الشرط لا يطبق فعلاً لغرم اداء المبلغ الفاتورة خلال الفترة المحددة، فانه، يحوز اھ (۱/ ۴۶۲)۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0