وضو

کیا عورت کے آگے کے راستہ سے نکلنے والی ہوا سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟

فتوی نمبر :
39462
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کیا عورت کے آگے کے راستہ سے نکلنے والی ہوا سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟

وضو توڑنے کے مسائل تفصیل سے بتادیں کہ اگر حاملہ عورت کو دورانِ نماز پانچ سے چھ مرتبہ آگے سے ہوا نکلتی محسوس ہو ، تو کیا ہر رکعت میں وضو بنانا ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ صحیح سالم عورت کی اگلی شرمگاہ سے نکلنے والی ہوا سے وضو نہیں ٹوٹتا ، اس لئے اس کی وجہ سے بار بار وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و ينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) (الیٰ قوله) (إلى ما يطهر) (الیٰ قوله) (و) خروج غير نجس مثل (ريح أو دودة أو حصاة من دبر لا) خروج ذلك من جرح و لا خروج (ريح من قبل) غير مفضاة اھ (1 /136)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39462کی تصدیق کریں
0     682
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات