ایک لڑکی کا بچپن میں نکاح کر دیا تھا ایک لڑکے سے ، اس وقت دونوں نا بالغ تھے ، اب لڑکے نے دوسرا نکاح کر لیا ہے اور اسکا ایک بچہ بھی ہے، کچھ خاندانی مسئلوں کی وجہ سے وہ لڑکا اس لڑکی سے شادی نہیں کر رہا جس سے بچپن میں نکاح ہوا تھا اور طلاق بھی نہیں دے رہا، کیا عدالت سے خلع لیکر اس لڑکی کا کسی اور سے نکاح کرسکتے ہیں ؟
مذکورلڑکے پر لازم ہے کہ جس لڑکی سے بچپن میں نکاح ہوا تھا اس سے شادی کر کےگھر بسائے اگر دو بیویوں کو بسانا ممکن نہ ہو تو پہلی کو طلاق دیکر اپنے نکاح کے بند ھن سے آزاد کر دے ، تاہم لڑکی اور اسکی برادری کے کہنے پر اگر لڑکا طلاق یا خلع نہ دے تو کچھ مال یا مہر معاف کر کے طلاق لیکر یا عدالت سے رجوع کر کے تنسیخِ نکاح کی ڈگری حاصل کی جاسکتی ہے۔
كمافي الدر: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر) الخ . ( ج ص (9).
وفيه ايضاً: (وللولي) الآتي بيانه( إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثیبا) الخ (ج 3 ص 65).
وفي الرد :تحت (قوله للشقاق )لوجود الشقاق وهو الاختلاف والخصم السنة اذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحاجار الطلاق والخلع) اھ(ج 3 ص 441)
وفي الدر: أولا بأس به عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) اھ. ( ج 3 ص 111).
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1